Sunday, September 17, 2017

سافٹ ویئر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

(سافٹ ویئر) 

 software مُصَنَّع لطیف مَصنُوع لطیف کو کہتے ہیں، جو شمارندی برناماجات   اور متعلقہ معطیات کا ایک ایسا مجموعہ ہےجو کمپیوٹر کو یہ بتائےکام کیا؟اورکس طرح کرناہے؟  یہ دراصل ایسی ہدایات ہوتی ہیں جن پر کمپیوٹر اپنے  Hardware کی مدد سے عمل کر تے ہوئےتجزیاتی افعال انجام دیتا ہے،  سوفٹویئر کو ہارڈویئر کی طرح چھوا نہیں جاسکتا، اسکا کوئی مادی (جسمانی )وجود نہیں ہوتا یہ صرف سوچ بچار اور وہم وگمان کے ذریعہ ترتیب دی گئی ہے،
سوال : کیا سافٹ ویئر کی چوری جائز ہے ؟

جواب : شریعت میں مطلقاً چوری ممنوع وحرام ہے پھر سافٹ ویئر کی چوری کی اجازت کیسے مل سکتی ہے ؟ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیدَیَھُمَا الاخ(مائدہ /۳۸)
سوال : کیا سافٹ ویئر کی چوری بھی ہوتی ہے ؟
جواب : جی ہاں! لو گوں کے کمپیوٹر یا موبائل میں اکثر سافٹ ویئر ایسے ملتے ہیں جو چوری کی ہوئی ہو تی ہے اور ظاہر سی بات ہے یہ وہ چوری نہیں ہے کہ کسی دوکان سے سافٹ وےئر کی سی ڈی چوری کر کے لائے اور پھر اس کو انسٹا ل کر کے استعمال کرئے بلکہ یہ وہ چوری ہے جو کسی گراں قدر سافٹ ویئر کی غیر قانونی کاپی رائٹ بنا کر دوسروں کو فری یا روپیے لیکر تقسیم کرنا شروع کر دیا جائے مثلا: فوٹوشاپ یہ ایک ایسا سافٹ ویئر ہے جو ہر کسی ڈیزائنگ کرنے والے کیلئے ہر دل عزیز ہے لیکن کمپنی اس کی قیمت تقریباً 50000 رکھی ہے اور اس کی کاپی رائیٹ کی بالکل اجازت نہیں دیتی پھر بھی آج سو میں سے کوئی ایک ہی ایساملے گا جو اس فوٹوشاپ کی اصلی کاپی خرید کر استعمال کررہاہوورنہ تو ہر کسی کے پاس اس کی غیر قانونی کاپی ہی ملے گی ،
قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ اس کو چوری کرنا بھی نہیں سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی ایک قسم کی چوری ہے جس پر قیامت کے دن باز پرس ہوگی،میں نے حال ہی میں blogspot.comپر ایک مضمون پڑھا جس میں بزنس سافٹ ویئر لانس کے حوالے سے لکھا تھا کہ صرف سافٹ ویئر کی چوری کی وجہ سے ملک زیمبابوکی معیشت ہر سال ۴۰ لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھاتی ہے اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ یہ چوری کس قدر قابل ترک ہے اور ملک وملت کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے ۔
فتاویٰ بینا ت غیرمطبوعہ میں ہے ’’ اگرچہ ابتدائی طور پر شرعاً اسمیں کوئی حرج نہیں تاہم جب کاپی رائٹ باقاعدہ ایک مسلم قانون کی حیثیت اختیار کر چکاہے اور اس کا لحاظ کئی ایک غیر شرعی امور کے ارتکاب کیلئے سد باب بھی ہے اس لئے کاپی رائٹ قانون کے تحت ایسی کتب یا سی ڈیز وغیرہ کی نقل بنانا قانوناً جرم اور ممنوع ہے جنہوں نے اس کی کاپی کی صراحتاً ممانعت لکھ دی ہو لہذا اس سے احتراز لازم ہے ( فتاوی بینات غیر مطبوعہ فتویٰ نمبر 36693)
سوال : کیا سافٹ ویئر کی مطلقاً نقل کرنا درست نہیں ہے؟
جواب : سافٹ ویئرکی مطلق طور پر نقل کرنا ممنوع نہیں ہے بلکہ بغیر کسی قسم کی محنت کئے بغیر اس کی غیر قانونی کاپی کرلینا اس طور پر کے اسکی سریل نمبر معلوم کر لیا جائے یا پھر اس کے کوڈ کو توڑ کر نقل بنا لیا جائے یہ قانوناً جرم ہے اگر کو ئی شخص خود محنت کرکے ازسر نو سافٹ ویئر تیار کرتا ہے اور صرف دوسرے کمپنی کی سافٹ ویئر کو نمونہ کے طور پر رکھتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے مثلاً:آج کل اکثر دوسرے ملک کی مصنوعات کو ہندوستان نقل کرتی ہے اور ازسرے نو خود اس سامان کو بنا کر کم قیمت میں فروخت کرتی ہے اس قسم کا معاملہ برابر چلا آرہاہے نہ تو اس پر حکومت کی جانب سے پابندی ہے اور نہ کسی عالم دین نے اس پر نکیر کی ہے لہذا مطلق طور پر نقل کرنا کسی چیز کا ممنوع نہیں ہو گا ۔واللہ اعلم باالصواب
سوال : ہم نے تو دوکان والے سے کسی سافٹ ویئر کو قیمت میں خریدا ہے لیکن خود اس دوکان دار نے غیر قانونی سافٹ ویئر کی کاپی کر رکھا ہے کیا اس کا گناہ ہمارے اوپر بھی ہو گا ؟
جواب: یہ جانتے ہوئے کہ یہ شخص غیر قانونی سافٹ ویئر فروخت کر تا ہے اس سے سافٹ وئیر نہیں خرید نا چا ہیے ہاں دھو کہ سے خرید لیا ہے تو پھر اسکا گناہ فروخت کرنے والے پر ہو گا ۔ وَلَاْتَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرَیٰ
سوال : کیا فری freeسافٹ ویئر بھی دستیاب ہے ؟
جواب :جی ہاں! بہت سے سافٹ ویئر فری ہیں جن کا استعمال کر کے سافٹ ویئر کی چوری سے بچ سکتے ہیں ،اور فری سافٹ ویئر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ غیر معمول ہے ،بلکہ بعض دفعہ تو فری سافٹ ویئر بہتر ہو تا ہے۔ 
سوال : موبائل کا ایسا سافٹ ویئر یا اپس Appsجس کا استعمال اچھے اور برے دونوں کام میں ہوں اس کا بنا نا اور بیچنایا اسی طرح اس کا کسی دوسرے کے موبائل یا کمپیوٹر پر انسٹال کرنا جائز ہے ؟
جواب : جائز ہے لیکن غلط استعمال کرنے کا وبال استعمال کرنے والے پر ہو گا ۔شامی میں ہے ’’قال فیہ من باب البغاۃ وعلم من ھذا انہ لا یکرہ بیع مالم تعم المعصیۃبہ کبیع الجاریۃ المغنیۃ (شامی ۶/۳۹۱ مکتبہ شاملہ)
اسی سے کچھ ملتے مسائل

(1)موبائل کے فائدے                                           (2) موبائل کے نقصانات
(5)موبائل کا رنگ ٹون                                         (6)فلم اور ویڈیو دیکھنا
(7)ویڈیو گرافی اور تصویر کشی                              (8)مس کال
(9)سیم کارڈ                                                      (9)بیلنس اور ریچارج 
(10)واٹساپWhatsapp                                              () ایس ایم ایس
(12) موبائل                                                             (13)میموری کارڈ کے مسائل

ہندوستان کے سلگتے مسائل                   ہندوستان کے نئے مسائل
(۱)سول کوڈ                                                   برما کے مظلوم مسلمان
(۲)یکساں سول کوڈ                                           تین طلاق اور ہندوستان کی عدالت کا فیصلہ

Wednesday, September 13, 2017

تین طلاق

بسم اللہ الرحمن الرحیم

(جس کا ڈر تھا وہی ہوا)
ہمکو تو سوچی سمجھی سازش کے تحت فارم دیکر الجھا دیاگیا ،اور ہم اسی فارم کے فلپ کو فیصلہ کی بنیاد سمجھ بیٹھے جبکہ فسطائی طاقت اور فرعونی حکومت اپنے منصوبہ بندی کے تحت وہی کر گزری جس کا ڈر تھا ، ہمکو روتے ہوئے بچے کی طرح عدالت عظمیٰ اورپانچ ججوں کی پنچ کمیٹی کا سہا رابتایا گیا اور اس سلسلے میں حکومت اپنے آپکو مسلمان عورتوں کا ہمدرد بتلاتی رہی، جبکہ مسلم دانشوروں اورمذہبی رہنماؤں کو پہلے سے ہی یقین کامل تھا کہ مودی اپنے قول و عمل میں زمین و آسما ن کا تضاد رکھتے ہیں،لہذا ان کی مسلم ہمدردی کی باتوں کو سیاسی حربہ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جانی چاہئے۔
لیکن دیکھتے دیکھتے تین طلاق پر عدالت عالیہ کا وہی فیصلہ آچکا جس کا ہمیں ڈرتھا۔عدالت عالیہ نے اپنے فیصلہ میں کہاہے کہ تین طلاق غیر اسلامی اور آئین ہند کے خلاف ہے۔اس فیصلہ سے وہ پانچ مطلقہ مسلم خواتین خوش ہیں جنھوں نے بیک نشست تین طلاق کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ،وہیں خواتین کی جانب سےلڑنے والا مسلم مہیلا آندولن بھی جوش و خروش میں مبتلا ہے،بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بھی فیصلہ کو مسلم خواتین کو برابر ی کا حق ملنے کے سلسلے میں نئے دور کی شروعات سے تعبیر کیا ہے ،اسی طرح راج ناتھ سنگھ ،ارون چٹلی ،روی شنکرپرساد،مینکا گاندھی ،یوگی ادتیہ ناتھ ،سبرامنیم سوامی ،وجے گوئل، اندریش کمار ،شاذیہ علمی اور دیگر لیڈروں نے بھی خیر مقدم کیا،اور اس کو مسلمانوں کی جیت بتائی جارہی ہے ،کیا انگلیوں پرگنتی کی جانے والی مسلم عورتیں اور چند ایمان فروش مسلمانوں کی اس جیت کو ہندوستان میں بسنے والے تیئس کروڑ مسلمانوں کے خلاف عدالت عالیہ کے فیصلہ کو مسلمانوں کی جیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ؟حکومت کو چند عورتیں نظر آئی لیکن اس کے مد مقابل میں پورے ہندوستان کی مسلم عورتیں نظر نہیں آئیں ؟
کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس کے مطابق کوئی شخص ایک ہی نشست میں تین طلاق دیتا ہے تو تین طلاق لاگو نہیں ہوگی۔ یہ نکتہ قابل غور ہے کیونکہ شریعت کے مطابق یہ طلاق واقع ہوجاتی ہے اگرچہ اس طرح کی طلاق دینے والا گناہگارہے، جب شرعی طور پر تین طلاق ہوجاتی ہے تو قانون اسے طلاق مانے یا نہ مانے اس سے کوئی فرق نہیں پرتا ہے اس صورت حال میں ایک ایمان والے کیلئے بڑا مشکل کا سامنا کرنا پڑیگا کہ مطلقہ ثلاثہ کے ساتھ وہی معاملہ کرے جوبیوی کےساتھ کیا جاتا ہےتو اس سے دوسرے بڑے بڑے مسائل پیدا ہونگے ؛بلکہ شریعت کی اصطلاح میں دونوں زانی کہلائیں گے۔
سپریم کورٹ نے اس مسئلہ پر مرکزی حکومت کو قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیا ہے۔ چھ ماہ تک کیلئے طلاق ثلاثہ پر روک لگا دی ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کو اپنے طور پر من مانی انداز فیصلہ کرنے  اور یک طرفہ قانون سازی سے گریز کرنے کی اشدضرورت ہے۔ یہ ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کے مذہبی جذبات کا مسئلہ ہے۔ اس سے شریعت کے اصول اور قوانین وابستہ ہیں۔ ایک ایمان والے کیلئے اپنے جان ومال بلکہ پوری کائنات سے زیادہ محبوب قرآن وحدیث کی اتباع ہے جس کو وہ کسی بھی صورت میں چھوڑ نہیں سکتاایسے میں حکومت اپنے طور پر قانون سازی کرنے سے گریز کرے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے تمام مکاتیب فکر سے تعلق رکھنے والے علما کرام کی رائے حاصل کرکےوہی فیصلہ کیا جا ئے جو قرآن و احادیث سے ثابت شدہ ہے ۔
قائین کرام اگر آپ یہ مضمون پڑھلیں تو اسی ویب سے شائع شدہ مضمون طلاق اور ملک بھارت ضرور پڑھ لیں

ملک بھارت سلگتے مسائل

Sunday, September 10, 2017

برما کے مسلمان


بسم اللہ الرحمن الرحیم

( کیوں ہوا؟ )


    حامدا ومصلیا اما بعد ، دل مغموم ہی نہیں بلکہ ماؤف ہوچکا ہے ،آنکھیں خشک ہو کر بینائی کو خیر آباد کر رہی ہیں،مسلسل کئی ماہ سے قلب سلیم کو مریض اور صحت مند کو لاغر کردینے والی خبر صدائے باز کی طرح دل ودماغ میں گشت کررہی ہے ،اسی اندوہ ناک غم میں ماہی بے آب کی طرح حیات و ممات کے درمیان گھٹ گھٹ کر جی رہاہوں ،آخر بولوں تو کس کو بولوں اور کہوں تو کس کو کہوں ؟ دعا بھی بدستور شب و روز صبح وشام صوم و صلوٰۃ میں خطبہ جمعہ وعیدین میں اجتماعیت وانفرادیت کے ساتھ ہورہی ہے لیکن ان تمام سعی پیہم کوہماری بداعمالیاں دروازہ قبولیت پر پہونچنے نہیں دیتی،اسی کسمپرسی میں دیوانہ وار لیل ونہار گزرہے تھے ،کہ کئی حضرات نے مجھ سے قول وقرار لے ہی لیا کہ میں جمعہ کے بیان میں سوئی ہو امت کو جگاؤں ، بالآخر اسی وعدہ کا ایفاء کر رہاہوں ،

(احساس قلب)

       ساتھ ہی اس بات کا بھی ہمیں احساس ہے کہ ہم ایک ایسے ملک میں جی رہے جہاں کی آزادی صرف زبانی رہ گئی ہے اگرحقیقت لکھا جائے یا بولا جائے تو اسے دہشت گردی یا بغاوت کا جامہ زیب وتن کر کے سزائے موت نہیں توکم از کم عمر قید کا مزدہ سنادیاجاتاہے ، اسلئے بڑے احتیاط اور بیدار مغزی کے ساتھ حدود میں رہتے ہوئے عرض گذار ہوں ،اور ایسے ملک میں کیا عرض کیا جائے جہاں کی حکومت خود برما کی ظالم حکومت سے ہاتھ ملاتی ہواس سے دوستی اور مواخات کاعہد کرتی ہو ۔

                    (میانمار ،برما)


میانمار/ برما : ماضی میں حکومت برطانیہ کے زیر اثر رہا ہے، اس کی سرحدیں بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ سے ملتی ہیں، اس ریاست کا قدیم نام برما مشہور تھا قانون کی حکمرانی اور موثر عدالتی نظام کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ تیل کے کنویں ہونے کی وجہ سے ذریعہ معاش تیل کی فروخت ہے۔ نہرو اپنی کتاب Glimpses of World Historyمیں لکھتے ہیں کہ انگریزوں نے 1826سے1886کے درمیان میں اس علاقے پر قبضہ کیا تھا مگر 1935کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت برما کو بھارت سے علیحدہ کردیا گیا،اور4جنوری 1948 کو برطانوی اثر سے یہ ملک آزاد ہوا ، دوسری جنگ عظیم کے دوران برما پر جاپان کا بھی قبضہ رہا، یہاں اکثریت آبادی بدھ مت جبکہ عیسائی اور مسلمانوں کی بھی محدود تعداد موجود ہے،اسی اقلیت کی وجہ سے مسلسل بے چارے نہتے مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً ظلم وبر بریت کا نشانہ بنایا جا تا ہے ۔







                               (مظلوم مسلمان) 
       خوداقوامِ متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں راکھین کے روہنگیا مسلمانوں کو ’’روئے عالم کی مظلوم ترین اقلیت‘‘ قرار دیا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق تو دور کی بات انہیں اپنے آپکو ملک کا شہری کہلانے کا بھی حق حاصل نہیں ہے۔ میانمار غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جو محض مذہبی عناد کی وجہ سے اپنے شہریوں کو شہری تسلیم کرنے سے انکارکررہی ہے۔ اگست 2012ء میں برطانوی ٹی وی چینل ’چینل فور‘ نے ایک دستاویزی رپورٹ نشر کی جس میں بتایا گیاکہ کس طرح مسلمان، کیمپوں میں جانوروں والی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں تقریباً 10 ہزار مکانات کا ملبہ بھی دکھایا گیا جس کے بعد اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے اپنی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق تشدد کی اس لہر میں کم از کم 80 ہزار مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک اعلیٰ عہدیدار ’نوی پلے‘ نے انتظامیہ کے سلوک و رویے کے حوالے سے بھی ایک رپورٹ دی کہ مقامی پولیس اور بدامنی پر قابو پانے کیلئے بھیجے جانے والی فوج بھی بے گناہ مسلمانوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔ 

اکتوبر 2012ء میں جب مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے مسلمانوں کی مدد کے لئے میانمار میں دفتر کھولنے کی اجازت طلب کی تو میانمار کے صدر نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ، ہیومن رائٹس واچ نے بارہا عالمی برادری کے سامنے بے شمار ٹھوس دستاویزی اور تصویری ثبوت پیش بھی کئے اور اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری’’ جنرل بان کی مون‘‘ سے بھی اپیل کی کہ وہ تشدد روکنے میں اپنا کردار ادا کریں لیکن یہ ساری کوششیں بے سود رہیں۔ 
اور یہ ظالم حکومت تسلسل کے ساتھ 2013،2014،2015،2016اور 2017 میں اپنی ظلم وبر بریت کو جاری کئے ہوئی ہے ،ابھی حال کے ظلم وبربریت میں لاکھوں مسلماں اپنا جان مال اور خاندان کو خیر آباد کر چکے ہیں ، ۳/ستمبر کی رپوٹ کے مطابق تقریبا ۷۱۰۰۰ ہزارمسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہیں ،تو کئی ہزار تھائی لینڈ،ہندوستان اور پاکستان میں خفیہ طور پر سرحدی علاقے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ،صرف روہنگیا میں ۲۶۰۰ ہزار گھروں کو آگ لگاکر جلادیاگیا جس میں کتنے ہی بچے اورمردو عورت جل کر راکھ بن گئے ۔







حضرات ! اس المیہ میں ہم دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ومفتی ابوالقاسم نعمانی مدظلہ العالی کا پیپرمیں مذکور بیان بھی ذکر دیتے ہیں ، حضرت نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر نہایت رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ ،حقوق انسانی تنظیموں اور حکومت ہند سے مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے ،حضرت نے فرمایا جس بے رحمی کے ساتھ برما میں روہنگیا کے مسلمانوں کا قتل عا م اور انکی خواتین کی آبروریزی کی جارہی ہے تا ریخ میں اسکی مثال مشکل سے ملتی ہے ...........سوشل میڈیا پراس انداز کے مناظر سامنے آرہے ہیں آنکھیں انکو دیکھ نے کی تاب نہیں رکھتی ہیں، اگر یہی ظلم وستم اور قتل و غارتگری مسلمان کے علاوہ دیگر طبقہ کے ساتھ ہوتی تو اب تک دنیا اور میڈیا نیز ’’ یو ان او ‘‘میں چیخ پکار شروع ہو جاتی ؛لیکن یہ معاملہ مسلمانوں سے وابستہ ہے؛ اس لئے پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہے ۔حضرت نے فرمایا ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی میانمار گئے لیکن انہوں نے بھی اس مسئلہ کو بہت ہلکے انداز میں پیش کیا ،انہوں نے وہاں وہ آواز نہیں اٹھائی جو وقت کی ضرورت تھی ۔
ساتھ ہی جمیعۃ العلماء ہند نے اس سلسلے میں مطالبہ کرتے ہو ئے کہا (۱) بلاتاخیر انسانی المیہ کی بین الاقوامی انکوئری کرائی جائے اور متأثرین تک عالمی میڈیا اور رفاہی اداروں کی رسائی کی اجازت دی جائے ،(۲) انتہائی کسمپرسی کے عالم میں کیمپوں میں پناہ لئے متأثرین کی بارآبادکاری کی جا ئے (۳)روہنگیا کے مسلمان کو شہریت دی جائے (۴) جو لوگ حالات سے متأثر ہو کر دوسرے ممالک میں پناہ لے چکے ہیں انہیں متعلقہ ممالک رفیوجی کا درجہ دیکر ان کے ساتھ انسانی سلوک کرے اور ہر ممکن انکی مدد کرے۔ 
آل انڈیا متحدہ محاذ کے ذریعہ محاذ کے قومی صدر شاہنواز آفتاب کی قیادت میں ایک’’ میمورنڈم ‘‘اے ڈی ایم کے ذریعہ وزیر اعظم نیرندر مودی اور اقوام متحدہ کے نام ارسال کیاگیا ،میمورنڈم میں وزیر اعظم نریندر مودی سے میانمار حکومت کے ذریعہ جاری مسلمانوں کی قتل عام بند کرنے کی اور اقوام متحدہ سے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے ۔






(ہم کیاکریں )

       حضرات ! نہ تو ہمیں کوئی غلط قدم اٹھانی ہے اور نہ ہمارے علماء کرام واکابرین عظام اسکی اجازت دیتے ہیں،بس ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ پوری دنیا کو ظالموں سے نجات دے اور رہی بات ان بے چارے مسلمانوں کی تعاون کا توبقول مولانا یاسر ندیم کے ’’اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ بنگلہ دیش اور برما کی سرحد پر پھنسے ہوے لاکھوں مہاجرین کی امداد کی فکر کی جائے۔ لیکن پریشانی یہ ہے کہ بیرون ملک ترسیل زر کے قوانین ہندوستان میں بہت سخت ہیں، نیز ایسی کوئی تنظیم بھی میری معلومات کی حد تک موجود نہیں ہے جو بنگلہ دیش اور برما تک رسائی رکھتی ہو۔ میں نے برطانیہ کی دو اور ترکی کی ایک رفاہی تنظیم سے جو برما تک رسائی رکھتی ہیں رابطے کی کوشش کی ہے، ابھی تک صرف ایک برطانوی رفاہی ادارے نے جواب دیا ہے، لیکن اس تنظیم کے برطانوی اکاؤنٹ تک روپیے ٹرانسفر کرنا بھی کسی مہم سر کرنے کے مرادف ہے۔ہندوستان میں موجود ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی مدد بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ حیدرآباد کی ایک تنظیم فعال انداز میں ان کی حتی الامکان معاونت کررہی ہے، ساتھ ہی اس تنظیم نے ماہر ترین وکلا کی مدد سے سپریم کورٹ میں کیس بھی داخل کیا ہے، جس کا فیصلہ گیارہ ستمبر کو آنا ہے۔ فوری طور پر کم از کم ایسے رفاہی اداروں کی مدد سے بے گھر برمی مسلمانوں کا تعاون کرنا ہمارا ملی فریضہ ہے۔

(حرف آخر)

آخری بات جو آپ سے کرنی ہیں کہ بھائیو! ہم سب تمام مسلمانوں کیلئے عموماً اور خصوصاً برما کے مسلمانوں کیلئے دعاکریں کہ اللہ تعالی انکی مکمل طور پر حفاظت فرمائے نیز اگر ہو سکے تو انفرادی طور پر اپنا اپنا تعاون بھی ان مظلوموں تک پہونچائیں نیز مسلمانوں کے حالات دن بدن خراب ہوتے ہی جارہے ہیں اس پس منظر میں ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں ہے کہ تمام حالات من جانب اللہ ہی آتے ہیں اورحالات اعمال کے تابع ہوتے ہیں اس لئے ہم سب اپنے ایمان واعمال کو درست کرتے ہوئے اپنے زکوۃ سے تھوڑامال ان کاموں بھی لگا ئیں اور جب بھی زکوٰۃ نکا لیں تو کچھ رقم ان حالات کے لئے بھی مختص کردیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اور پوری ملت اسلامیہ کی حفاظت فرمائے ،آمین